درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے – نصیر احمد ناصر کی غزل – Sad Urdu Poetry

غزل

 

شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے

درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے

 

تہ بہ تہ منجمد تھکن جاگی

جسم انگڑائیوں میں چیخ اٹھے

 

دھوپ جب آئینہ بدست آئی

عکس بینائیوں میں چیخ اٹھے

 

میں سمندر ہوں، کوئی تو سیپی

میری گہرائیوں میں چیخ اٹھے

 

جب پہاڑوں پہ برف گرنے لگے

کوئی اترائیوں میں چیخ اٹھے

 

جب پکارا کسی مسافر نے

راستے کھائیوں میں چیخ اٹھے

 

کچھ خموشی سے دیکھتے تھے مجھے

کچھ تماشائیوں میں چیخ اٹھے

 

رات بھر خواب دیکھنے والے

دن کی سچائیوں میں چیخ اٹھے

 

دل سے رخصت ہوئی کوئی خواہش

گیت شہنائیوں میں چیخ اٹھے

یہ بھی دیکھیں

بار بار اس طرح حیرت سے اُسے ملتے ہیں – منصور آفاق کی غزل

تو پھر ملے گا تو کتنا بدل چکا ہو گا – ریاض مجید کی غزل

ایک ہی شہر میں رہ کر نہ ملے، خوب ہیں ہم – ڈاکٹر خورشید رضوی کی غزل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے