آدمی کب مر جاتا ہے – مصطفیٰ شہاب کی نظم – Sad Urdu Poetry

آدمی جب مر جاتا ہے

دل کی دھڑکن کھو جاتی ہے
خوں کی ندی سو جاتی ہے
اس کی بیوہ،اس کے بچے
روتے ہیں، ماتم کرتے ہیں
(وہ ان کے اشکوں میں زندہ رہتا ہے)

آدمی جب مر جاتا ہے

لوگ اسے پھر نہلاتے ہیں
کورا کپڑا پہناتے ہیں
سبھی قرابت دار، محلے والے
برسوں کے دکھ سکھ کے ساتھی
نوکر چاکر ٹھیلے والے
اُس کے سارے
سنے سنائے، نئے پرانے
کچھ جھوٹے، کچھ سچے قصے
گھنٹوں بیٹھے دہراتے ہیں
(وہ اپنے قصوں میں زندہ رہتا ہے)

آدمی جب مرجاتا ہے

اُس کی لاش کو قبرستاں تک
کاندھے سے کاندھے کو جوڑے
لوگ اُٹھا کر لے جاتے ہیں
پھر سب اُس کو دفناتے ہیں
اُس پہ پھینک کے مٹی تھوڑی
اپنا فرض نبھاتے ہیں
پھر قبر بنائی جاتی ہے
اور پھول بچھائے جاتے ہیں
(وہ ان کے پھولوں میں زندہ رہتا ہے)

آدمی جب مرجاتا ہے

اور کئی دن ہو جاتے ہیں
رفتہ رفتہ اس کے قصے
ساری لذت کھو دیتے ہیں
رونا دھونا ہو جاتا ہے
پھول بھی خاک میں سو جاتے ہیں
اُس کے بارے میں لوگوں کے
ذہن کے خالی خانوں میں جب
وقت کا مرہم بھر جاتا ہے

آدمی تب مرجاتا ہے۔۔۔۔

یہ بھی دیکھیں

ایک عورت اور ایک دل – سید کاشف رضا کی نظم

اُداس

  وہ کون تھا جو گیا ہے اُداس کر کے مجھے وہ کون ہے کہ …

اشعار

  اِس دشتِ بلا میں کہ جہاں ہے گزر اپنا جُز سایہ غم کوئی نہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے