وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل

 

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ

زندگی تیرے تماشے سے سوا تھے ہم لوگ

 

کون طوفان بدن آن کے ٹھہرا دل میں

رقصِ شعلہ تھے، کہیں موج نما تھے ہم لوگ

 

اب ہیں دہلیز پہ ٹھہرے ہوئے زخموں کے نشاں

ورنہ تو خواب زمانوں کے خدا تھے ہم لوگ

 

کبھی امید حوالہ تھی کبھی پیاس چشم

دامنِ خواب کہ صحرا کی ردا تھے ہم لوگ

 

وہ ٹھہرتا بھی کہاں ااور کسے اپنا کہتا

آتی جاتی ہوئی لہروں کی صدا تھے ہم لوگ

 

رنج کو ضد تھی کہ ہمزاد ہی بن کر جینا

اس لیے گلشنِ جاں، آبلہ پا تھے ہم لوگ

 

ہم سے رشتوں کی تمازت نہیں جھیلی جاتی

ہم سے بیگانہ ہی رہیو کہ ہوا تھے ہم لوگ

 

منزلیں راستہ پوچھیں، وہ مسافر ہم تھے

آسماں ڈھونڈنے نکلے، وہ دعا تھے تم لوگ

 

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے