شاک انگیز تجربہ – ساجدحمید کی نظم

ہنسی آ رہی ہے
نہ جانے مجھے کیوں ہنسی آ رہی ہے
مگر—-ہنستے ہنستے
مجھے ایسا محسوس ہونے لگا ہے
کہ میں رو رہا ہوں
میں کیوں ہنس رہا ہوں
میں کیوں رو رہا ہوں
کسی نے پوچھا
نہ دل نے
نہ تم نے!!!

یہ بھی دیکھیں

شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں – اقبال نوید کی نظم / Urdu Poem By Naveed Iqbal

شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں   سبھی کچھ تھا جسے ہم چھوڑ کر گھر …

درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے – نصیر احمد ناصر کی غزل – Sad Urdu Poetry

غزل   شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے   تہ …

لوگ – Sad Poetry In Urdu

  وحشت کے اس نگر میں وہ قوسِ قزح سے لوگ جانے کہاں سے آئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے