وہ لڑکی – عبیرہ احمد کی نظم

وہ لڑکی

خواب۔۔۔۔!
کہاں ہیں؟
اور تم کن آنکھوں کی بات کیا کرتے ہو؟
کہر کی چادر اوڑھے جو لڑکی گزری ہے
اس کا نام پتہ پوچھو ہو؟
اس کا کوئی نام نہیں ہے
گھر۔۔۔۔؟
ہوتا تھا۔۔۔۔
لیکن شاید گھر بھی نہیں تھا
دھوکا تھا بس
اس نے تم کو روکا تھا؟
کب؟
یونہی سرِ رہ؟
کیا کہتی تھی؟
عشق۔۔۔۔؟
تو کیا تم سچ سمجھے تھے؟
اب بھی؟
لیکن
کہر کی چادر میں لپٹی وہ لڑکی جس کا نام نہیں ہے
جس کا کوئی مقام نہیں ہے
جھوٹی بھی تو ہو سکتی ہے
ہو سکتا ہے جو لکھا ہو جھوٹ لکھا ہو
ہو سکتا ہے آج کسی سے سچ کہتی ہو
پوچھ کے دیکھو
ہو سکتا ہے
وہ لڑکی جو سب کچھ بول دیا کرتی تھی
چپ رہتی ہو

یہ بھی دیکھیں

مضافِ دریا – علی اکبر ناطق کی نظم

اچھے دنوں کی یاد باقی ہے – صفدر سلیم سیال کی نظم

غم کرتے ہیں خوش ہوتے ہیں – قاسم یعقوب کی نظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے