شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں – اقبال نوید کی نظم / Urdu Poem By Naveed Iqbal

شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں

 

سبھی کچھ تھا
جسے ہم چھوڑ کر گھر سے نکلنے کے لیے بے تاب رہتے تھے

مگر ہم یہ سمجھتے تھے
کہ اپنے واسطے اس سرز میں پر کچھ نہیں رکھا
درود یوار اندر سے قفس معلوم ہوتے تھے
محبت اور نفرت تھی۔۔۔۔ جو اپنی تھی

ہوائیں ، بارشیں ، خوشبو، سنہری دھوپ کا موسم
سبھی وہ کچھ جو افسانوں میں ہوتا ہے
وہ ہنگامے جنہیں دیکھے ہوئے اک عمر گزری ہے
وہ اپنے لوگ۔۔۔۔
جواب آنسوؤں کے گھر کا مسکن ہیں
مگر اس وقت جب ہم سانس بھی لیتے
گھٹن ایسی کہ جیسے دم نکلتا ہو
یہی لگتا تھا
جیسے اجنبی لوگوں میں زندہ ہیں

ہمیشہ خواب
کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے یہ سوچتے رہتے
کہ اپنی آنکھ جب کھولیں
تو منظر ہی بدل جائے
کے معلوم تھا
منظر بدلنے سے وہی کردار رہتے ہیں
وہی دیوار بینائی کو کچھ کرنے نہیں دے گی
وہی زنجیر پاؤں میں
وہی تصویر آنکھوں میں
نگاہوں میں وہ سب کچھ ہے
کہ جب سرسبز شاخوں پر ہمیشہ پھول کھلتے تھے
خزاں کی رُت میں بھی اک تازگی محسوس ہوتی تھی

،مگر اب زندگی آرائشی پھولوں میں
خوشبو کانچ کی بوتل کے اندرقید    
ہم پر مسکراتی ہے
ہمارے ہاتھ خالی ہیں
مگر ذہنوں میں گزرے روز و شب کی ایک البم ہے
خبر کیا تھی
شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں
سوکھ جاتے ہیں

یہ بھی دیکھیں

مضافِ دریا – علی اکبر ناطق کی نظم

اچھے دنوں کی یاد باقی ہے – صفدر سلیم سیال کی نظم

غم کرتے ہیں خوش ہوتے ہیں – قاسم یعقوب کی نظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے