شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں
سبھی کچھ تھا
جسے ہم چھوڑ کر گھر سے نکلنے کے لیے بے تاب رہتے تھے
مگر ہم یہ سمجھتے تھے
کہ اپنے واسطے اس سرز میں پر کچھ نہیں رکھا
درود یوار اندر سے قفس معلوم ہوتے تھے
محبت اور نفرت تھی۔۔۔۔ جو اپنی تھی
ہوائیں ، بارشیں ، خوشبو، سنہری دھوپ کا موسم
سبھی وہ کچھ جو افسانوں میں ہوتا ہے
وہ ہنگامے جنہیں دیکھے ہوئے اک عمر گزری ہے
وہ اپنے لوگ۔۔۔۔
جواب آنسوؤں کے گھر کا مسکن ہیں
مگر اس وقت جب ہم سانس بھی لیتے
گھٹن ایسی کہ جیسے دم نکلتا ہو
یہی لگتا تھا
جیسے اجنبی لوگوں میں زندہ ہیں
ہمیشہ خواب
کی دہلیز پر بیٹھے ہوئے یہ سوچتے رہتے
کہ اپنی آنکھ جب کھولیں
تو منظر ہی بدل جائے
کے معلوم تھا
منظر بدلنے سے وہی کردار رہتے ہیں
وہی دیوار بینائی کو کچھ کرنے نہیں دے گی
وہی زنجیر پاؤں میں
وہی تصویر آنکھوں میں
نگاہوں میں وہ سب کچھ ہے
کہ جب سرسبز شاخوں پر ہمیشہ پھول کھلتے تھے
خزاں کی رُت میں بھی اک تازگی محسوس ہوتی تھی
،مگر اب زندگی آرائشی پھولوں میں
خوشبو کانچ کی بوتل کے اندرقید
ہم پر مسکراتی ہے
ہمارے ہاتھ خالی ہیں
مگر ذہنوں میں گزرے روز و شب کی ایک البم ہے
خبر کیا تھی
شجر اپنی زمیں جب چھوڑتے ہیں
سوکھ جاتے ہیں
Best Urdu Poetry | Romantic, Sad & 2 Line Urdu Shayari Find the best romantic, love, and sad two-line Urdu poetry. Explore classic and latest Urdu shayari collections optimized for poetry lovers searching for emotional and meaningful verses.