بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے – شاہدذکی کی غزل \ Urdu Poetry By Shahid Zaki

بس روح سچ ہے باقی کہانی فریب ہے
جو کچھ بھی ہے زمینی___زمانی فریب ہے
رنگ اپنے اپنے وقت پہ کھلتے ہیں آنکھ پر
اول فریب ہے کوئی ثانی فریب ہے
سوداگران شعلگئ شر کے دوش پر
مشکیز گاں سے جھانکتا پانی فریب ہے
اس گھومتی زمیں پہ دوبارہ ملیں گے ہم
ہجرت فرار،نقل مکانی فریب ہے
دریا کی اصل تیرتی لاشوں سے پوچھیے
ٹھہراؤ ایک چال، روانی فریب ہے
اب شام ہو گئی ہے تو سورج کو رویئے
ہم نے کہا نہ تھا کہ جوانی فریب ہے
بار دگر سے سے کسی کا گزر نہیں
آئندگاں کے حق میں نشانی فریب ہے
علم اک حجاب اور حواس آئینے کا زنگ
نسیان حق ہے، یاد دہانی فریب ہے
تجسیم کر کہ خواب کی دنیا ہے جاوداں
تسلیم کر کہ عالمِ فانی فریب ہے
شاہد دروغ گویئ گلزار پر نہ جا
تتلی سے پوچھ رنگ فشانی فریب ہے

یہ بھی دیکھیں

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے – اشرف یوسفی کی غزل / Urdu Poetry By Ashraf Yousufi

غزل   رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے بارش سے کھڑکی کے شیشے بھیگ …

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے