وہی جو آدھی رات کو چراغ بن کے جل اٹھا کسی کی یاد کا نہیں، وہ زخم کا نشان ہے (نظام الدین نظام)
زخم admin مارچ 16, 2020 اُداس شاعری, زخم تبصرہ کریں 406 ویوز وہی جو آدھی رات کو چراغ بن کے جل اٹھا کسی کی یاد کا نہیں، وہ زخم کا نشان ہے (نظام الدین نظام) شئیر کریں Facebook Twitter Stumbleupon LinkedIn Pinterest