زخم

 

وہی جو آدھی رات کو چراغ بن کے جل اٹھا

کسی کی یاد کا نہیں، وہ زخم کا نشان ہے

(نظام الدین نظام)

یہ بھی دیکھیں

مجرم – Sad Poetry In Urdu

  ہم نہ آغاز کے مجرم تھے، نہ انجام کے ہیں ہاتھ میں ہاتھ لئے …

اُداس

  وہ کون تھا جو گیا ہے اُداس کر کے مجھے وہ کون ہے کہ …

اشعار

  اِس دشتِ بلا میں کہ جہاں ہے گزر اپنا جُز سایہ غم کوئی نہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے