اشعار

 

اِس دشتِ بلا میں کہ جہاں ہے گزر اپنا

جُز سایہ غم کوئی نہیں ہم سفر اپنا

 

میں آپ ہی دروازہ ہوں اور آپ ہی دستک

اور آپ ہی بیٹھا ہوں یہاں منتظر اپنا

(مشفق خواجہ)

یہ بھی دیکھیں

آدمی کب مر جاتا ہے – مصطفیٰ شہاب کی نظم – Sad Urdu Poetry

آدمی جب مر جاتا ہے دل کی دھڑکن کھو جاتی ہے خوں کی ندی سو …

زلفیں – Romantic Urdu Poetry

  ہوا سے آپ کی زلفیں بکھر گئی ہوں گی فضا میں بارشِ ظلمات ہو …

مجرم – Sad Poetry In Urdu

  ہم نہ آغاز کے مجرم تھے، نہ انجام کے ہیں ہاتھ میں ہاتھ لئے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے