کامیاب – زبیررضوی کی ایک نظم

وہ مجھ سے بچھڑتے ہوئے
وداع کہنے والے دوستوں کے بیچ
کھڑی مسکراتی رہی
روئی نہیں
خود کو پُراسراررکھنے
اور اپنے آپ پر قابو پانے کی
اس آخری کوشش میں بھی
وہ کامیاب رہے گی
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا!!!

یہ بھی دیکھیں

مضافِ دریا – علی اکبر ناطق کی نظم

اچھے دنوں کی یاد باقی ہے – صفدر سلیم سیال کی نظم

غم کرتے ہیں خوش ہوتے ہیں – قاسم یعقوب کی نظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے