کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
خالی سیٹوں پہ میں رکھا ہوا رومال ہوں کیا
ہر مسافر کو بتاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
پہلے لے لیتا ہوں چپ چاپ میں رخصت خود سے
اور پھر شور مچاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
جیسے بچوں کو ڈراتے ہیں، میں اکثر خود کو
یہی کہہ کہہ کے ڈراتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
تو اگر کوئی نہیں ہے تو بتادے مجھ کو
میں اسی وہم میں رہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
میں ہوں شاید کسی ملبے سے سرکتا ہوا ہاتھ
چیختا رہتا ہوں زندہ ہوں کوئی ہے کوئی ہے
تو اگر ہے بھی تو کیا ہے جو نہیں ہے بھی تو کیا
جتنا میں بھیڑ میں تنہا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
پوچھتے پوچھتے تھک جاتی ہے خلقت ترا نام
میں مسلسل یہی کہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

یہ بھی دیکھیں

عہدِ جنوں میں عرصۂ وحشت گزارنا – امداد آکاش کی غزل – Ghazal By Imdad Aakash

غزل  

درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے – نصیر احمد ناصر کی غزل – Sad Urdu Poetry

غزل   شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے   تہ …

بار بار اس طرح حیرت سے اُسے ملتے ہیں – منصور آفاق کی غزل

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے