کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
خالی سیٹوں پہ میں رکھا ہوا رومال ہوں کیا
ہر مسافر کو بتاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
پہلے لے لیتا ہوں چپ چاپ میں رخصت خود سے
اور پھر شور مچاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
جیسے بچوں کو ڈراتے ہیں، میں اکثر خود کو
یہی کہہ کہہ کے ڈراتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
تو اگر کوئی نہیں ہے تو بتادے مجھ کو
میں اسی وہم میں رہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
میں ہوں شاید کسی ملبے سے سرکتا ہوا ہاتھ
چیختا رہتا ہوں زندہ ہوں کوئی ہے کوئی ہے
تو اگر ہے بھی تو کیا ہے جو نہیں ہے بھی تو کیا
جتنا میں بھیڑ میں تنہا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
پوچھتے پوچھتے تھک جاتی ہے خلقت ترا نام
میں مسلسل یہی کہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے
یہ بھی دیکھیں
درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے – نصیر احمد ناصر کی غزل – Sad Urdu Poetry
غزل شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے تہ …
Best Urdu Poetry | Romantic, Sad & 2 Line Urdu Shayari Find the best romantic, love, and sad two-line Urdu poetry. Explore classic and latest Urdu shayari collections optimized for poetry lovers searching for emotional and meaningful verses.