بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی
ڈوبنے والے کو تنکے کا سہارا ہی سہی
ہم زباں دے کے نہیں بات سے پھرنے والے
ہے خسارے کا یہ سودا تو خسارا ہی سہی
دلِ عشاق بھی بچے کی طرح ہوتا ہے
اس کے ہاتھوں میں دلاسے کا غبارا ہی سہی
وقت کی اپنی عدالت بھی ہوا کرتی ہے
آج اس شہر میں قانون تمہارا ہی سہی
کچھ تو ہو زادِ سفر راہِ طلب میں جاناں
ایک دزدیده نظر، ایک اشارا ہی سہی
وہ ہیں اس جیت پہ نازاں’ یہ خوشی کیا کم ہے !
چلئے اس کھیل میں نقصان ہمارا ہی سہی
آپ کی بزم میں ہونا ہی بہت ہے ہم کو
ایک کونا ہی سہی، ایک کنارا ہی سہی
آخری موج تلک ہاتھ میں پتوار رہے
!زندگی بحرِ بلا خیز کا دھارا ہی سہی 

یہ بھی دیکھیں

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے