رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے – اشرف یوسفی کی غزل / Urdu Poetry By Ashraf Yousufi

غزل

 

رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے
بارش سے کھڑکی کے شیشے بھیگ گئے
بارش کی بوچھاڑ تو اندر تک آئی
خشک تنوں کے سب اندازے بھیگ گئے
بھیگ گئے سب اپنی اپنی یادوں میں
کچھ روتے کچھ ہنستے ہنستے بھیگ گئے
بھیگ گئے سب خط رکھے الماری میں
اور ان میں سب لکھے وعدے بھیگ گئے
دیکھ دیے کی لو تو نے تو دیکھے ہیں
کتنی آنکھیں کتنے تکیے بھیگ گئے
بادل کے ہمراہ سکول سے نکلے تھے
گھر تک آتے آتے بستے بھیگ گئے
اُڑتے پنچھی تیری منزل دور ہے کیا
دیکھ مسافر! تیرے کپڑے بھیگ گئے
رات ستارے آنگن اور اُداس آنکھیں
تیری باتیں کرتے کرتے بھیگ گئے
باہر آ کر دیکھ یہ منظر شہزادی
ہم تیری دہلیز پہ بیٹھے بھیگ گئے
جانے کیسے موسم کی یہ بارش تھی
میری آنکھیں تیرے سپنے بھیگ گئے
جس بستی میں دھوپ سا روپ چمکتا تھا
اس بستی کے سارے رستے بھیگ گئے

یہ بھی دیکھیں

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

عہدِ جنوں میں عرصۂ وحشت گزارنا – امداد آکاش کی غزل – Ghazal By Imdad Aakash

غزل  

درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے – نصیر احمد ناصر کی غزل – Sad Urdu Poetry

غزل   شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے   تہ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے