آخری بار جب ملے ہم لوگ – اسامہ آزاد کی غزل

غزل

 

آخری بار جب ملے ہم لوگ

شہر میں ہر جگہ دکھے ہم لوگ

 

بات ہوتی نہیں تھی آپس میں

پھر بھی اک دوسرے کے تھے ہم لوگ

 

اس نے محفل میں بیٹھنا تھا جہاں

اس طرف دیکھتے رہے ہم لوگ

 

ایک نمبر سے کال کیا آئی

رات بھر جاگتے رہے ہم لوگ

 

رہنما راہ میں فرار ہوا

یونہی اک سمت چل دیے ہم لوگ

(اسامہ آزاد)

یہ بھی دیکھیں

شک محبت کا پہلا دشمن ہے – لبنیٰ صفدر کی غزل

غزل

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل   بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی ڈوبنے والے کو تنکے …

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے