وقت کے اس پار – فرحان حنیف کی نظم

وقت کے اس پار

مجھے محسوس ہو رہا ہے
کہ وقت بہہ رہا ہے
وقت گہرا ہے
وقت کا پاٹ بہت چوڑا ہے
میں اسے اپنی مٹھی میں بند کرنا چاہتا ہوں
میں اس پار جانا چاہتا ہوں
لیکن کوئی کشتی نہیں

اور میں تیرنا نہیں جانتا!!!

یہ بھی دیکھیں

کافی ٹیبل – مونا شہاب کی نظم

مضافِ دریا – علی اکبر ناطق کی نظم

اچھے دنوں کی یاد باقی ہے – صفدر سلیم سیال کی نظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے