ہم ہیں لمحہ لمحہ غم اور سوگ منانے والے لوگ- سجاد بلوچ کی غزل

غزل

 

خواب ہوئے وہ میخانے اور خواب دکھانے والے لوگ

باقی رہ گئے بس ویرانے اور ڈرانے والے لوگ

 

ہم سینے میں قبر بنا لیتے ہیں جانے والوں کی

ہم ہیں لمحہ لمحہ غم اور سوگ منانے والے لوگ

 

کافی آگے نکل گئے ہیں میرے سارے ہم سفراں

اور بہت پیچھے ہیں میرے پیچھے آنے والے لوگ

 

چنوائے جاتے ہیں آخر کار آبی دیواروں میں

وحشی موجوں سے ہم ایسے سر ٹکرانے والے لوگ

 

اب تو زینۂ خواب کے ہر اک گام سے واقف ہو گئے ہیں

میری آنکھ سے میرے دل تک آنے جانے والے لوگ

 

کن لوگوں میں آ بیٹھے ہیں خاموشی کے ہمراہی

کس بستی میں آ نکلے ہم دشت بسانے والے لوگ

 

آپ ہیں ٹھنڈی میٹھی چھاؤں کے شاداب سفیر اور ہم

دھوپ اگانے والے ہیں یا خاک اڑانے والے لوگ

یہ بھی دیکھیں

شک محبت کا پہلا دشمن ہے – لبنیٰ صفدر کی غزل

غزل

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل   بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی ڈوبنے والے کو تنکے …

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے