ہم ہیں لمحہ لمحہ غم اور سوگ منانے والے لوگ- سجاد بلوچ کی غزل

غزل

 

خواب ہوئے وہ میخانے اور خواب دکھانے والے لوگ

باقی رہ گئے بس ویرانے اور ڈرانے والے لوگ

 

ہم سینے میں قبر بنا لیتے ہیں جانے والوں کی

ہم ہیں لمحہ لمحہ غم اور سوگ منانے والے لوگ

 

کافی آگے نکل گئے ہیں میرے سارے ہم سفراں

اور بہت پیچھے ہیں میرے پیچھے آنے والے لوگ

 

چنوائے جاتے ہیں آخر کار آبی دیواروں میں

وحشی موجوں سے ہم ایسے سر ٹکرانے والے لوگ

 

اب تو زینۂ خواب کے ہر اک گام سے واقف ہو گئے ہیں

میری آنکھ سے میرے دل تک آنے جانے والے لوگ

 

کن لوگوں میں آ بیٹھے ہیں خاموشی کے ہمراہی

کس بستی میں آ نکلے ہم دشت بسانے والے لوگ

 

آپ ہیں ٹھنڈی میٹھی چھاؤں کے شاداب سفیر اور ہم

دھوپ اگانے والے ہیں یا خاک اڑانے والے لوگ

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے