کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل

 

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا

زخمِ دل آپ کی نظروں سے بھی گہرا نکلا

 

تشنگی جم گئی پتھر کی طرح ہونٹوں پر

ڈوب کر بھی ترے دریا سے میں پیاسا نکلا

 

جب کبھی تجھ کو پکارا مری تنہائی نے

بُو اُڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا

 

کوئی ملتا ہے تو اب اپنا پتہ پوچھتا ہوں

بُو اُڑی پھول سے تصویر سے سایا نکلا

 

مجھ سے چھپتا ہی رہا تو مجھے آنکھیں دے کر

میں ہی پردہ تھا اٹھا میں تو تماشا نکلا

 

توڑ کر دیکھ لیا آئنہ دل تو نے

تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا

 

نظر آیا تھا سر بام مظفّر کوئی

تیری صورت کے سوا اور بتا کیا نکلا

 

 

 

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے