زنجیر

 

تم نے تو رہا کر دیا تھا آپ ہی، لیکن

ہم ساتھ لیے پھرتے ہیں زنجیر تمہاری

(ظفراقبال)

یہ بھی دیکھیں

رابطے نہ ختم کرو

جزیرہ اور سمندر – ایک شعر

خرد اور جنوں – ایک شعر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے