اشعار

 

اِس دشتِ بلا میں کہ جہاں ہے گزر اپنا

جُز سایہ غم کوئی نہیں ہم سفر اپنا

 

میں آپ ہی دروازہ ہوں اور آپ ہی دستک

اور آپ ہی بیٹھا ہوں یہاں منتظر اپنا

(مشفق خواجہ)

یہ بھی دیکھیں

درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے – نصیر احمد ناصر کی غزل – Sad Urdu Poetry

غزل   شب کی پہنائیوں میں چیخ اٹھے درد تنہائیوں میں چیخ اٹھے   تہ …

لوگ – Sad Poetry In Urdu

  وحشت کے اس نگر میں وہ قوسِ قزح سے لوگ جانے کہاں سے آئے …

آدمی کب مر جاتا ہے – مصطفیٰ شہاب کی نظم – Sad Urdu Poetry

آدمی جب مر جاتا ہے دل کی دھڑکن کھو جاتی ہے خوں کی ندی سو …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے