مہک رہے ہیں جو یہ پھول لب به لب مری جان – افتخارعارف کی غزل

مہک رہے ہیں جو یہ پھول لب به لب مری جان!
جو تم نہیں ہو تو پھر کون ہے سبب مری جان!
اداسیوں بھری شامیں جہاں سے آتی ہیں
وہیں سے آئی ہے یہ ساعتِ طرب مری جان!
مری کتابیں، مری خوشبوئیں، مری آنکھیں
تمھارے ہجر میں جاگے ہیں سب کے سب مری جان!
تمھارے ساتھ، جو گزرے تمھاری یاد کے ساتھ
نہ ویسے دن کبھی گزرے نہ ویسی شب مری جان!
بہم ہوئے ہیں ذرا دیر کو تو خوش ہو لیں
کے خبر کہ بچھڑ جائے کون کب مری جان!
کوئی دن اور کہ ہو جائیں گے فسانہ ہم
ہماری یاد ستائے گی تم کو جب مری جان!
بہت دنوں میں کہی میں نے اس طرح کی غزل
وگرنہ دل کی یہ حالت ہوئی تھی تب مری جان!

یہ بھی دیکھیں

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل   بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی ڈوبنے والے کو تنکے …

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے – اشرف یوسفی کی غزل / Urdu Poetry By Ashraf Yousufi

غزل   رات آنکھوں میں گزری سپنے بھیگ گئے بارش سے کھڑکی کے شیشے بھیگ …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے