ایک شعر

 

جنہیں ہم دیکھ کے جیتے تھے ناصرؔ

وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں

(ناصرکاظمی)

یہ بھی دیکھیں

ضرورت

  ویسے بھی تجھے لوگ نئے مل ہی گئے ہیں اور تجھ کو مری اتنی …

ایک شعر

  یاد آئی وہ پہلی بارش جب تجھے ایک نظر دیکھا تھا (ناصرکاظمی)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے