ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل

 

ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا

اسے یاد کر کے نہ دل دکھا جو گزر گیا سو گزر گیا

 

نہ گلہ کیا، نہ خفا ہوئے یونہی راستے میں جُدا ہوئے

نہ تُو بے وفا نہ میں بے وفا ، جو گزر گیا سو گزر گیا

 

وہ غزل کی اک کتاب تھا دہ گلوں میں اک گلاب تھا

ذرا دیر کا کوئی خواب تھا جو گزر گیا سو گزر گیا

 

مجھے پت جھڑوں کی کہانیاں نہ سنا سنا کے اداس کر

تُو خزاں کا پھول ہے مسکرا جو گزر گیا سو گزر گیا

 

وہ اُداس دھوپ سمیٹ کر کہیں دادیوں میں اُتر چکا

اسے اب نہ دے مرے دل صدا جو گزر گیا سوگزر گیا

 

یہ سفر بھی کتنا طویل ہے یہاں وقت کتنا قلیل ہے

کہاں لوٹ کر کوئی آئے گا جو گزر گیا سو گزر گیا

 

وہ وفائیں تھیں کہ جفائیں تھیں نہ یہ سوچ کس کی خطائیں تھیں

وہ ترا ہے اس کو گلے لگا جو گزر گیا سو گزر گیا

 

کوئی فرق شاہ و گدا نہیں کہ یہاں کسی کی بقا نہیں

یہ اُجاڑ محلوں کی سُن صدا، جو گزر گیا سو گزر گیا

 

تجھے اعتبار و یقیں نہیں، نہیں دنیا اتنی بری نہیں

نہ ملال کر مرے ساتھ آجو گزر گیا سو گزر گیا

 

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے