دیپک رنگ ہے چاہت اپنی کا ہے منائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل

 

دیپک رنگ ہے چاہت اپنی کا ہے منائیں تمہیں

ہم تو سلگتے ہی رہتے ہیں، کیوں سلگا ئیں تمہیں

 

ترک محبت ، ترک تمنا کر چکنے کے بعد

ہم پہ یہ مشکل آن پڑی ہے کیسے بھلائیں تمہیں

 

دل کے زخم کا رنگ تو شاید آنکھوں میں بھر آئے

روح کے زخموں کی گہرائی کیسے دکھائیں تمہیں

 

درد ہماری محرومی کا تم تب جانو گے

جب کھانے آئے گی چپ کی سائیں سائیں تمہیں

 

سناٹا جب تنہائی کے زہر میں گھلتا ہے

وہ گھڑیاں کیونکر کٹتی ہیں ، کیسے بتائیں تمہیں

 

جن باتوں نے پیار تمہارا نفرت میں بدلا

ڈر لگتا ہے وہ باتیں بھی بھول نہ جائیں تمہیں

 

رنگ برنگے ہاتھ تمہارے پھر میں ہاتھ آئے

پھر بھی یہ کیسے چاہیں کہ ساری عمر نہ پائیں تمہیں

 

اُڑتے پچھپی ، ڈھلتے سائے ، جاتے کل اور ہم

بیرن شام کا تھام کے دامن روز بلائیں تمہیں

 

!دور گگن پر بننے والے نرمل کو مل چاند

بے کل من کہتا ہے ، آؤ، ہاتھ لگائیں تمہیں

 

پاس ہمارے آکر تم بے گانہ سے کیوں ہو؟

چاہو تو ہم پھر کچھ دوری پر چھوڑ آئیں تمہیں

 

انہونی  کی چنتا، ہونی  کا  انیائے نظرؔ

دونوں بیری ہیں جیون کے ہم سمجھائیں تمہیں

 

یہ بھی دیکھیں

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

عہدِ جنوں میں عرصۂ وحشت گزارنا – امداد آکاش کی غزل – Ghazal By Imdad Aakash

غزل  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے