خسارہ

 

دوستوں سے کبھی قیمت نہیں لیتے دل کی

اس تجارت میں خسارہ نہیں ہوتا ہم کو

(عرفان صدیقی)

یہ بھی دیکھیں

رابطے نہ ختم کرو

جزیرہ اور سمندر – ایک شعر

خرد اور جنوں – ایک شعر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے