خوشبوؤں میں نہائی ہوئی لڑکیاں، شہر کی لڑکیاں – فاضل جمیلی کی غزل

 

خوشبوؤں میں نہائی ہوئی لڑکیاں، شہر کی لڑکیاں

آپ ہی پھول ہیں، آپ ہی تتلیاں، شہر کی لڑکیاں

 

میری آنکھوں کی گلیوں میں بکھرے ہوئے زندگی کے نشاں

اونچے نیچے مکاں، ادھ کھلی کھڑکیاں، شہر کی لڑکیاں

 

گاؤں کی گوریو! مردوزن کی کہانی پرانی ہوئی

کر رہی ہیں مرتب نئی داستاں، شہر کی لڑکیاں

 

ان دیاروں میں بھی کوئی آباد تھا کس کو معلوم ہے

اب تو ہیں صرف اجڑی ہوئی بستیاں، شہر کی لڑکیاں

 

لوگ تکتے بھی ہیں اور پڑھتے بھی ہیں پھر بھی کڑھتے نہیں

خالی سڑکوں پہ اڑتی ہوئی پرچیاں، شہر کی لڑکیاں

 

تُو بھی فاضل جمیلی نہ ہونے کے دکھ سے نکل کر تو دیکھ

اپنے ہونے پہ ہیں کس قدر بد گماں، شہر کی لڑکیاں

یہ بھی دیکھیں

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

عہدِ جنوں میں عرصۂ وحشت گزارنا – امداد آکاش کی غزل – Ghazal By Imdad Aakash

غزل  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے