میں آئینے کی طرح ہوں مگر غبار نصیب- خورشیدطلب کی غزل

غزل

 

میں آئینے کی طرح ہوں مگر غبار نصیب
مجھے کہاں کسی چہرے کا اعتبار نصیب

ہر اک کلی کو میسر کہاں خراج نمو
ہر ایک گل کا ستارہ کہاں بہار نصیب

ہر ایک لمحہ بچھڑ جاتا ہے کوئی مجھ سے
میں ایک راہگذر میرا انتظار نصیب

ہے ایک آگ جو بجھتی سلگتی رہتی ہے
تمہارے چاہنے والوں کو کب قرار نصیب

مرا نہیں جسے خود سے زیادہ چاہتا ہوں
ہزار بار ہو تجھ پر خدا کی مار نصیب

یہ بھی دیکھیں

شک محبت کا پہلا دشمن ہے – لبنیٰ صفدر کی غزل

غزل

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل   بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی ڈوبنے والے کو تنکے …

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے