میں آئینے کی طرح ہوں مگر غبار نصیب- خورشیدطلب کی غزل

غزل

 

میں آئینے کی طرح ہوں مگر غبار نصیب
مجھے کہاں کسی چہرے کا اعتبار نصیب

ہر اک کلی کو میسر کہاں خراج نمو
ہر ایک گل کا ستارہ کہاں بہار نصیب

ہر ایک لمحہ بچھڑ جاتا ہے کوئی مجھ سے
میں ایک راہگذر میرا انتظار نصیب

ہے ایک آگ جو بجھتی سلگتی رہتی ہے
تمہارے چاہنے والوں کو کب قرار نصیب

مرا نہیں جسے خود سے زیادہ چاہتا ہوں
ہزار بار ہو تجھ پر خدا کی مار نصیب

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے