تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا – منوررانا کی غزل

غزل

 

کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھا

تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا

 

یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے

تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا

 

یہاں تو جو بھی ہے آبِ رواں کا عاشق ہے

کسی نے خشک ندی کی طرف نہیں دیکھا

 

وہ جس کے واسطے پردیس جا رہا ہوں میں

بچھڑتے وقت اُسی کی طرف نہیں دیکھا

 

نہ روک لے ہمیں روتا ہوا کوئی چہرہ

چلے تو مڑ کے گلی کی طرف نہیں دیکھا

یہ بھی دیکھیں

شک محبت کا پہلا دشمن ہے – لبنیٰ صفدر کی غزل

غزل

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل   بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی ڈوبنے والے کو تنکے …

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے