تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا – منوررانا کی غزل

غزل

 

کبھی خوشی سے خوشی کی طرف نہیں دیکھا

تمہارے بعد کسی کی طرف نہیں دیکھا

 

یہ سوچ کر کہ ترا انتظار لازم ہے

تمام عمر گھڑی کی طرف نہیں دیکھا

 

یہاں تو جو بھی ہے آبِ رواں کا عاشق ہے

کسی نے خشک ندی کی طرف نہیں دیکھا

 

وہ جس کے واسطے پردیس جا رہا ہوں میں

بچھڑتے وقت اُسی کی طرف نہیں دیکھا

 

نہ روک لے ہمیں روتا ہوا کوئی چہرہ

چلے تو مڑ کے گلی کی طرف نہیں دیکھا

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے