ایک پرانی رِیت – منیر نیازی کی نظم

جو بھی گھر سے جاتا ہے
یہ کہہ کر ہی جاتا ہے
"دیکھو مجھ کو بھول نہ جانا
میں پھر لوٹ کے آؤں گا
دل کو اچھے لگنے والے
لاکھوں تحفے لاؤں گا
نئے نئے لوگوں کی باتیں
آ کر تمہیں سناؤں گا”
لیکن آنکھیں تھک جاتی ہیں
وہ واپس نہیں آتا ہے
لوگ بہت ہیں اور وہ اکیلا
ان میں گم ہو جاتا ہے

یہ بھی دیکھیں

کافی ٹیبل – مونا شہاب کی نظم

مضافِ دریا – علی اکبر ناطق کی نظم

اچھے دنوں کی یاد باقی ہے – صفدر سلیم سیال کی نظم

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے