ترا بخشا ہوا غم اک نشانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا – ناہید قمر کی غزل

غزل

چلو مانا کہ یہ سب کچھ کہانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

بچھڑتے دم مری آنکھوں میں پانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

 

مرا دل اس متاع عمر کی خاطر ہے فرش راہ لیکن

ترا بخشا ہوا غم اک نشانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

 

اگر جیون ہے رستہ خواب کی تعمیر سے تعبیر تک کا

تو اس میں ساتھ تیرا مہربانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

 

بہت خوش رنگ سے اک خواب کی مقروض ٹھہریں جب یہ آنکھیں

چکانے کے لیے اس زندگانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

 

دل خوش فہم نے امکان سے ویران ہونے تک کی رت میں

جو سوچا تھا فقط اک خوش گمانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

 

تو اپنا آپ آخر بے جواز و بے سبب لگتا ہے کیوں،گر

پس ترک تعلق رائیگانی سے زیادہ کچھ نہیں تھا

یہ بھی دیکھیں

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل   کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی …

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے