تم سےرخصت طلب ہے مل جاؤ- شبنم شکیل کی غزل

غزل

 

تم سےرخصت طلب ہے مل جاؤ
کوئی اب جاں بہ لب ہے مل جاؤ

لوٹ کر اب نہ آسکیں شاید
یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ

دل دھڑکتے ہوئے ڈرتا ہے
کتنی سنسان شب ہے، مل جاؤ

اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھی
دل کا حال جو اب ہے، مل جاؤ

خواہشیں بے سبب بھی ہوتی ہیں
کیا کہیں کیا سبب ہے، مل جاؤ

کون اب اور انتظار کرے
اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ

یہ بھی دیکھیں

شک محبت کا پہلا دشمن ہے – لبنیٰ صفدر کی غزل

غزل

بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی – امجد اسلام امجد کی غزل / Urdu Poetry By Amjad Islam Amjad

غزل   بے کراں شب میں کہیں ایک ستارا ہی سہی ڈوبنے والے کو تنکے …

دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں – ظہورنظر کی غزل / Urdu Ghazal By Zahoor Nazar

غزل   دیپک راگ ہے چاہت اپنی کا ہے سنائیں تمہیں ہم تو سلگتے ہی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے