تم سےرخصت طلب ہے مل جاؤ- شبنم شکیل کی غزل

غزل

 

تم سےرخصت طلب ہے مل جاؤ
کوئی اب جاں بہ لب ہے مل جاؤ

لوٹ کر اب نہ آسکیں شاید
یہ مسافت عجب ہے مل جاؤ

دل دھڑکتے ہوئے ڈرتا ہے
کتنی سنسان شب ہے، مل جاؤ

اس سے پہلے نہیں ہوا تھا کبھی
دل کا حال جو اب ہے، مل جاؤ

خواہشیں بے سبب بھی ہوتی ہیں
کیا کہیں کیا سبب ہے، مل جاؤ

کون اب اور انتظار کرے
اتنی مہلت ہی کب ہے مل جاؤ

یہ بھی دیکھیں

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

عہدِ جنوں میں عرصۂ وحشت گزارنا – امداد آکاش کی غزل – Ghazal By Imdad Aakash

غزل  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے