کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے – جاوید صبا کی غزل / Urdu Poetry By Javed Saba

غزل

 

کبھی آواز لگاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

کبھی سرگوشیاں کرتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

خالی سیٹوں پہ میں رکھا ہوا رومال ہوں کیا

ہر مسافر کو بتاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

پہلے لے لیتا ہوں چپ چاپ میں رخصت خود سے

اور پھر شور مچاتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

جیسے بچوں کو ڈراتے ہیں، میں اکثر خود کو

یہی کہہ کہہ کے ڈراتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

تو اگر کوئی نہیں ہے تو بتادے مجھ کو

میں اسی وہم میں رہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

میں ہوں شاید کسی ملبے سے سرکتا ہوا ہاتھ

چیختا رہتا ہوں زندہ ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

تو اگر ہے بھی تو کیا ہے جو نہیں ہے بھی تو کیا

جتنا میں بھیڑ میں تنہا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

 

پوچھتے پوچھتے تھک جاتی ہے خلقت ترا نام

میں مسلسل یہی کہتا ہوں کوئی ہے کوئی ہے

یہ بھی دیکھیں

کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا – مظفّر وارثی کی غزل – Urdu Poetry By Muzaffar Warsi

غزل   کیا بھلامجھ کو پرکھنے کا نتیجہ نکلا زخمِ دل آپ کی نظروں سے …

ہمہ وقت رنج و ملال کیا، جو گزر گیا سو گزر گیا – ڈاکٹر بشیر بدر کی غزل / Urdu Poetry By Dr. Bashir Badar

غزل   ہمہ وقت رنج و ملال کیا جو گزر گیا سو گزر گیا اسے …

وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ – کشور ناہید کی غزل – Urdu Poetry By Kishwar Nahid

غزل   وہ عجب عہدِ وفا تھا کہ جدا تھے ہم لوگ زندگی تیرے تماشے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے