مہ و سال

 

اب بھی ملو تو لوٹ آئے ساعتِ ابتدائے عشق

یہ شب و روز کچھ نہیں، یہ مہ و سال کچھ نہیں

(عرفان صدیقی)

یہ بھی دیکھیں

محبت

  نظر اٹھا کے محبت سے تُو نے دیکھا تھا وہ وقت ٹھہر گیا ہے، …

ایک محبت

  میں یوں تو ایک محبت کے قائلین میں تھا تجھے ملا تو رہا ہی …

قربت

تیری قربت کی مہک آئے گی دیواروں سے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

برائے مہربانی شئیر کا آپشن استعمال کیجیے